فاٹا کے عوام کی اب سن بھی لیجیے

298

اللہ اللہ کر کے اس مسلے پر کچھ پیش رفت ہوئی ہی تھی کہ مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی صاحب درمیان میں کود پڑے انہوں نے اس بل کو ایجنڈے سے ہی نکال دیا اب اس پر اپوزیشن نے سٹینڈ لیا ہوا ہے مگر کورم ہی پورا نہیں ہو رہا بات سنجیدہ اور غیر سنجیدہ بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ رہی اور تان پھر دھرنے پرآ کے ٹوٹتی ہے اس حکومت کو دھرنوں سے کوئی نقصان نہیں بلکہ ان کو دھرنوں کی آڑ میں مزید اپنے نقصان پورا کرنے کا موقع مل جاتا ہے وہ مسلسل عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ دھرنا نہ ہوتا تو پاکستان اب تک چاند پر پہنچ چکا ہوتا مزید ان کے کاغذی منصوبوں کی لاگت اربوں روپے بڑھ جاتی ہے ان کے اثاثے بڑھ جاتے ہیں اور قوم مزید قرضوں میں دھنس جاتی ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک دھرنا نہ ہو حکومت ایک قدم آگے نہیں بڑھتی ہر روز ایک نیا تماشہ قوم دیکھتی ہے اور اپنی قسمت پہ رو کے سو جاتی ہے ہم تو فاٹا سے متعلق صرف نام کی حد تک واقف ہیں نام بھی وہ جس سے دہشت گردی کے قصے منسوب ہیں جہاں پاکستان کا قانون نہیں چلتا پولیٹیکل ایجنٹ کی حکمرانی چلتی ہے جو انگریز نے 1901میں رائج کیا تھا ایف سی آر کا قانون ایک ظالمانہ قانون ہے جس میں صرف پولیٹیکل ایجنٹ کی مرضی چلتی ہے چاہے وہ جانبدار ہی کیوں نہ ہومگر پاکستان کی سپریم کورٹ بھی کچھ نہیں کر سکتی اس لیے اس کو ’سرزمین بے آئین ‘‘ بھی کہا جاتا ہے فاٹا کے اراکین پارلیمنٹ پورے پاکستان کے لیے قانون سازی کے عمل کا حصہ ہوتے ہیں مگر فاٹا کے لیے کسی بھی قسم کی قانون سازی نہیں کر سکتے ،فاٹا میں بغیر جرم بتائے کسی کو بھی گرفتار کر کے بغیر کسی پراسیکیوشن کے بند رکھا جاتا ہے
Collective Punishmentکا قانون موجود ہے جس کے تحت فاٹا میں فرد واحد کے جرم کی سزا پورے گاؤں کو دی جاتی ہے پورے گاؤں کو گرفتار کیا جاتا ہے اگر کوئی گرفتاری نہ دے تو ان کی عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر اس کا گھر مسمار کر دیا جاتا ہے سنا ہے 2011 میں سابق صدر آصف علی زرداری نے عورتوں اور بچوں پر کچھ نرمی کا قانون بنایا تھا لیکن اس پر عملدرامد نہ کرا سکے فاٹا میں جس گاؤں سے لاش مل جائے پورے گاؤں کی شامت آ جاتی ہے غرض فاٹا میں صرف وہی زندہ رہ سکتا ہے جو طاقت رکھتا ہو جو اپنی حفاظت خود کر سکتا ہو میری وال پر فاٹا سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگ موجود ہیں ان سے ملنے والی معلومات کے نطابق یہاں پر لاقانونیت کی وجہ سے شریف آدمی سروائیو نہیں کر سکتا یہی وجہ ہے کہ ہر گھر میں اسلحہ پایا جاتا ہے تعلیمی نظام تقریباً ختم ہے فاٹا میں اس وقت سب سے کم لیٹریسی ریٹ ہے جو کہ اکیس فیصد ہے پچھتر فیصد اسکول مکمل طور پر تباہ ہیں یا بند پڑے ہیں جو اسکول کھلے ہیں ان میں بھی پانی اور واش روم جیسی بنیادی سہولیات موجود نہیں جبکہ ٹیچرز ان سکولوں کا رخ ہی نہیں کرتے پورے فاٹا میں ایک بھی میڈیکل کالج نہیں جبکہ عام کالج بھی نہ ہونے کے برابر ہیں کیڈٹ کالج ہیں مگر عام آدمی ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا خیبر پختون خواہ اور پنجاب سے بچے وہاں آ کر پڑھتے ہیں فاٹا یونیورسٹی 2008میں منظور ہوئی لیکن نوجوانوں کے شدید احتجاج پر 2014میں اس پر کام شروع ہوا وہ بھی ابھی تک صرف بارہ کمرے بن سکے ہیں نو سال تک کروڑوں کے فنڈ آتے رہے وہ کس کی جیب میں گئے کچھ علم نہیں ۔یہی حال صحت کے نظام کا ہے پورا فاٹا گھوم لیں کہیں ہسپتال نظر آئے گا بھی تو ابتر حالت میں ایمبولینس سسٹم کا نام و نشان نہیں انفراسٹرکچر نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں جن میں زیادہ تعداد حاملہ عورتوں کی ہوتی ہے یا جن کو گولی لگی ہو اس کے لیے خیبر پختون خواہ جانا پڑتا ہے فاٹا میں صحت کا نظام کتنا فعال ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فاٹا کے ہیلتھ ڈائریکٹر ڈاکٹر جواد کی ڈگریاں جعلی ہیں اور جناب کینڈا کے شہری ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں فاٹا میں بے روزگاری عروج پر ہے یہاں پر کسی سرکاری یا پرائیویٹ کمپنی یا بینک کی کوئی شاخ نہیں یہاں پر نوکریاں صرف ایف سی یا لیویز کی حد تک ہیں اس کے علاوہ سرکاری نوکری کا کوئی خاص ذریعہ نہیں یہی وجہ ہے کہ فاٹا کے نوجوان شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں یہاں پر ڈیم ہیں لیکن وہاں کرپشن اور لا قانونیت کے بازار گرم ہیں واپڈا حکام کسی اصول و عدالت کی پرواہ کیے بغیر ایسے پراجیکٹ بناتے ہیں جو وہاں کے رہنے والوں کی زندگیوں کے لیے خطرات کا باعث ہوتے ہیں ان پراجکٹس میں بھی رشوت اور سفارش نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگ نوکریوں سے محروم رہتے ہیں غرض فاٹا یہاں کے مکینوں کے لیے جہنم سے کم نہیں حالانہ یہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جو سوئزرلینڈ کا مقابلہ کرتا ہے یہاں معدنیات کے ذخائر بھرے پڑے ہیں جن میں تانبا اور سونے جیسے قیمتی ذخائر ہیں فاٹاکے لوگوں کے مطابق یہاں پر تیل اور گیس کے ذخائر پورے عرب سے بھی زیادہ ہیں اگر ان وسائل کو بروئے کار لایا جائے تو پاکستان کی کایا پلٹ سکتی ہے اور قبائل امیر ترین ہو سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مولانا ٖفضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی اور ان جیسے دوسرے لوگ سانپ بن کر پہرا دیتے ہیں کہیں اس علاقے کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے نہ نکل جائے میں نے جب ان سے سوال کیا کہ کیا فاٹا کے لوگ خیبر پختون خواہ میں انضمام چاہتے ہیں ؟ تو بہت ساروں کا جواب اثبات میں تھا جبکہ ایک آدھ فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں تھا اتنی ساری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے درمیان زندگی گذارنے والے فاٹا کے رہائشیوں کو اگر ریفرنڈم کا حق دے دیا جائے تو ان کے حق میں بہتر ہو گا لیکن سوال یہ ہے انہیں یہ حق دے گا کون؟

مسزجمشیدخاکوانی

47 Comments (تبصرے)

Leave A Reply (جواب چھوڑ دیں)