کاش وہ نارمنڈی کی جگہ 10 ڈاوننگ سٹریٹ فتح کرلیتا 

237

بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے کارناموں پر ان کے جیتے جی دستاویزی فلمیں بنی ہوں، کتابیں لکھی گئی ہوں، وہ کہانیوں کے ایک کردار کی طرح لوگوں کی روزمرہ زندگی میں بس گئے ہوں۔
#فیلڈ مارشل جنرل #برنارڈمنٹگمری جو برطانوی رائل آرمی کے کمانڈر انچیف بھی رہے، ان خوش نصیبوں میں سے ایک ہیں جن کی زندگی ہی میں اس کے کردار پر ہالی وڈ فلمیں بنیں اور بہت کامیاب رہیں۔ یہ شخص 1934 سے 1939 تک کوئٹہ میں مقیم رہا جہاں وہ سٹاف کالج میں انسٹرکٹر تھا۔ اس وقت وہ لیفٹیننٹ کرنل تھا۔ یہ شخص دنیائے جنگ کے عظیم ترین جرنیلوں میں شمار کیا جاتا ہے جس نے جنگ عظیم اول اور دوئم میں اپنی سپاہیانہ عظمت کا لوہا منوایا اور جس کی زندگی ہی میں اس کے جنگی کارنامے ہالی وڈ کی زینت بن گئے۔

جنرل برنارڈ منٹگمری 17 نومبر 1887ء کو لندن شہر کے کنگسٹن اوول میں پیدا ہوا۔ 1907ء تک سینٹ پال سکول میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد فوج میں بطور کمیشنڈ آفیسر بھرتی ہوا اور اسے محکوم ہندوستان میں تعینات ایک رجمنٹ میں بھیج دیا گیا۔

1914ء میں جنگ عظیم اول میں مغربی محاذ پر لڑتے ہوئے وہ زخمی ہوا لیکن اپنی شجاعت کی وجہ سے اعلی اعزاز سے نوازا گیا۔ صحت مند ہونے کے بعد بہت تیزی سے وہ ترقی کرتا گیا۔ 1927ء لیفٹننٹ کرنل بنتے ہوئے اس نے ایلزبتھ نامی ایک عورت سے شادی کی لیکن صرف 10 سال بعد اکتوبر 1937ء کو وہ انتقال کرگئی۔ اور اسی سال منٹگمری کو میجرجنرل بنادیاگیا۔

1939ء میں جنگ عظیم دوئم کے شعلے بھڑکنے لگے تو دنیا کے ہر خطے میں اسکی حدت محسوس کی گئی۔ ہٹلر کا جرمنی، میسولینی کا اٹلی اور مشرق بعید کا جاپان، سب اسکے انگلستان کے دشمن تھے۔ حملے اس قدر شدید ہوتے تھے کہ ہر دوسرے لمحے انگلستان کے شہروں میں ہوائی حملوں کی وجہ سے سائرن بجنے لگتے۔

کونسا ایسا محاذ ہے جس پر منٹگمری کو نہ بھیجا گیا۔ 1939 اور 1940 میں فرانس اور بیلجئیم میں لووٹین کی لڑائی لڑ کر سانس بھی نہ لےپایاتھا کہ اسے مغربی محاذ پر بھیج دیا گیا۔ اسکی نومبر 1942 میں حاصل کی گئی فتح نے تو جنگ کا رخ ہی بدل دیا۔

طرابلس کو فتح کرنے کے بعد اسکے نام کے ڈنکے بجنے لگے اور اسکو جنرل کے رینک پر ترقی دے دی گئی۔ اسکی پیش قدمیاں اور کامیابیاں جاری رہیں۔ وادی عقربت، سسلی کا محاذ، اٹلی پر حملہ اور یوں اسکی تاریخ ساز #نارمنڈی کی جنگ آگئی جہاں اسکی مہارت، کارکردگی اور سپاہیانہ عظمت آج بھی دنیا بھر کے WAR کورسوں کا حصہ بن گئی۔

اور پھر برطانیہ کے اس عظیم سپوت کے آگے 1945 میں جرمن فوجوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ خوفزدہ برطانوی عوام جو ہٹلر کے فاشسٹ عزائم کے ڈر سے اپنا انجام سوچ رہے تھے، خوشی سے جھوم اٹھے۔

برطانیہ کے عوام نے اپنے اس عظیم جرنیل کا والہانہ استقبال کیا۔ 1946ء میں اسے کمانڈرانچیف بنادیا گیا اور 1958ء میں وہ یورپ کے اتحادی افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر کی حیثیت سے ریٹائر ہوگیا۔

یہ عظیم جرنیل، انگلستان کو فتح اور جرمن، اٹلی اور جاپانی فوجوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کرنے والا جب ریٹائرڈ ہوا تو اسکے پاس رہنے کےلئے کوئی گھر بلکہ ایک کمرہ تک نہ تھا۔ پوری زندگی اکیلا رہنے اور جوانی کا زیادہ حصہ جنگ کے میدانوں میں گزارنے کی وجہ سے اسکا مزاج چڑچڑا ہوگیا تھا۔کبھی ایک گھر میں کرائے پر رہتا اور لڑ جھگڑ کر دوسرے میں جاتا۔

بہت سے گھر بدلنے کے بعد ایک دن وہ تنگ آگیا اور ایک درخواست لے کر اس وقت کے برطانوی وزیراعظم کے دفتر 10 ڈاوننگ سٹریٹ پہنچ گیا۔ لوگ اس عظیم جرنیل کو اس دروازے پر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ وزیراعظم نے باہر آکر اسکا استقبال کیا۔

وزیراعظم نے برطانوی لہجے میں بڑی ملائمت سے پوچھا، اے ہمارے محسن میں آپکی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ منٹگمری نے اپنی درخواست آگے بڑھا دی۔ اس درخواست میں فیلڈ مارشل نے تحریر کیا تھا کہ میں نے تمام عمر تاج برطانیہ کی فوج میں خدمات سرانجام دیں ہیں۔ اس ملک کو فتح سے ہمکنار کروایا ہے۔ لیکن میرے پاس رہنے کےلئے گھر نہیں ہے۔ میری بقیہ زندگی کےلئے کوئی گھر الاٹ کیا جائے، یا پھر کوئی زرعی زمین الاٹ کردی جائے جہاں میں آرام سے زندگی گزار سکوں۔

وزیراعظم نے خاموشی سے درخواست پڑھی اور پھر کافی دیر منٹگمری کے کارناموں کی تعریف کرنے کے بعد کہا، جنرل صاحب! آپ نے برطانیہ کےلئے جو خدمات انجام دیں ہیں پوری قوم اس کےلئے آپ کی احسان مند ہے، لیکن میرے علم میں ہے کہ حکومت برطانیہ آپ کو ان خدمات کے عوض باقاعدہ تنخواہ دیتی رہی ہے۔ اور میری معلومات کے مطابق یہ تنخواہ ایک گھنٹہ بھی لیٹ نہیں ہوئی، اور دوسری بات یہ کہ سلطنت برطانیہ کے وزیراعظم کے پاس کوئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ آپ کو کوئی گھر، فلیٹ یا زرعی زمین الاٹ کرسکے۔

وزیراعظم کو اپنے اختیار کی بےبسی کا اظہار کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہ ہوئی اور نہ ہی جنرل منٹگمری کو یہ بات سمجھنے میں دیر لگی۔

کتنا بےبس وزیراعظم ہوتاہے برطانیہ کا کہ وہ اپنے سب سے عظیم جرنیل کو کوئی پلاٹ، کوئی زرعی زمین یا کوئی مکان الاٹ نہ کرسکے اور کتنا بدنصیب تھا وہ جرنیل جسے اسکی حکومت نے بقیہ زندگی گزارنے کےلئے پوری دنیا میں پھیلے اپنے سفارت خانوں میں سےکسی ایک میں بھی اسے سفیر مقرر نہ کیا۔

برطانیہ میں اتنی حکومتی کارپوریشن ہیں ان میں سے اسے کسی ایک کا سربراہ یا چئیرمین مقرر نہیں کیاگیا تاکہ اسکی زندگی بہتر گزر جائے۔ اسے کوئی کول مائن الاٹ نہ ہوا ، کوئی شکارگاہ اسکے نام نہ کی گئی۔ بس وہ ایسے ہی جگہ جگہ گھر بدلتا ہوا کرائے پر رہتا، لڑتا جھگڑتا، دوسرے گھر شفٹ ہوجاتا۔ وہ 24 مارچ 1976ء کو ونڈسر کے علاقے میں انتقال کرگیا اور منوں مٹی تلے دفن کردیاگیا۔

شاید وہ اس منوں مٹی تلے لیٹا اپنی بےوقوفی پر افسوس کر رہا ہو  اور کسی جنرل ایوب خان کی طرح کراچی، کسی جنرل یحی خان، جنرل ضیاءالحق اور  کسی جنرل پرویز مشرف کو اسلام آباد فتح کرتے دیکھ کر ان کی  قسمت اور سٹرٹیجی پر رشک کرتے ہوئے سوچ رہا ہو کہ  کاش وہ نارمنڈی فتح کرنے کی بجائے 10 ڈاوننگ سٹریٹ فتح کرلیتا تو بقیہ زندگی اس احسان فراموش قوم میں سکون اور اطمینان سے گزار سکتا تھا۔

علی فیاض

44 Comments (تبصرے)

Leave A Reply (جواب چھوڑ دیں)