شاید ابھی وقت لگے۔۔۔ علی فیاض

294

نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے پڑوس میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے۔ اس کانام #فجی ہے اور اسکی کل آبادی 12 لاکھ اور چند ہزار ہے۔ یہ ایک صدی تک برطانیہ کی غلامی میں رہنے کے بعد 1پ اکتوبر 1970 کو آزاد ہوا۔  اس ملک میں برطانوی آبادکار یورپی آوارہ منش خاندان تو جاکر آباد نہیں ہوئے جیسے کہ پڑوسی ممالک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں جاکر بس گئے مگر یہاں غیر منقسم ہندوستان سے بڑی تعداد میں مسلمان اور ہندو اپنی قسمت آزمانے کےلئے جاکر آباد ہوئے۔ چونکہ یہ لوگ گوروں کی طرح نسل کش نہ تھے اسی لئے مقامی آبادی اتنی بڑی تعداد میں موجود ہے ورنہ یہاں کا حال بھی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسا ہوتا کہ ڈھونڈے سے بھی کوئی مقامی باشندہ نہیں ملتا۔

سورج اپنی کرنیں سب سے پہلے یہاں بکھیرتا ہے۔ طلوع آفتاب کے گواہ فجی میں مقامی لوگ کل آبادی کا 51 فیصد ہیں جبکہ 49 فیصد ہندو اور مسلمان ہیں۔ ان میں عیسائی 52 فیصد، ہندو 38 فیصد جبکہ مسلمان 8 فیصد ہیں۔

غلامی میں اتنی مدت گزارنے والے ممالک میں ایک پیدائشی حامی یہ ہوتی ہے کہ وہاں ایک مضبوط فوج ہوتی ہے جس کا کام صرف اور صرف یہ ہوتاہے کہ ملک کے عوام کو کس طرح مطیع، فرمانبردار اور وفادار بنانا ہے۔ پہلے وہ یہ کام اپنے  بیرونی آقا کےلئے کرتی ہے اور پھر اس سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ جن لوگوں پر وہ دھونس اور ڈنڈے سے انگریز کی وفاداری نافذ کرتی رہی ہو ان کے نمائندے ہم پر حکمران بن جائیں۔ اسی لئے وہ یہ کام اپنے لئے کرنے لگتی ہے۔ خود ہی نافذ  کرنے  والے، خود  ہی ڈرانے  والے اور خود  ہی منصف۔

ایسی حکومتوں کو ایک بات کبھی بھی پسند نہیں آتی اس لئے کہ اس سے ان کا مفاد کمزور ہوتا ہے، ان کی حکمرانی میں خلل پڑتا ہے، ان کے جاہ و جلال کو گہن لگتا ہے اور وہ ہے ایک “آزاد اور خود مختار #عدلیہ”

فجی بھی اپنی کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ جنم لینے والا ایک ملک تھا۔ وہاں بھی سب سے پہلے 1987ائ میں آرمی نے منتخب حکومت کو ختم کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ حکومت پر قبضے کے بعد پہلا حکم یہ جاری کیا گیا کہ تمام جج فوج کے بنائے گئے قانون پر خلف اٹھائیں۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ اور اس خلف اٹھانے کے خلاف ملک کے تمام ججوں یہاں تک کہ مجسٹریٹوں نے استعفے دے دیئے۔  ب اور ملک کا عدالتی نظام دھڑام سے گرگیا۔

کوئی وکیل اس خلا کو پر کرنے کےلئے تیار نہ تھا اور فوج اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھی۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے ججوں کو بھرتی کیا گیا تو عدالتیں چلنے لگیں۔ لیکن لوگوں کا اعتماد عدالتوں سے اٹھتا گیا۔

سن 2000ء میں ایک دفعہ پھر اسمبلیاں بنیں، آئین منظور ہوا، سیاسی اور عدالتی نظام پھر سے سنبھل گیا لیکن ایک اور جرنیل نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ اس دفعہ ججوں نے کہا کہ اب کوئی استفعی نہیں دے گا، ہم لڑیں گے خواہ ہماری بات مانی جائے یا نہ مانی جائے۔ چونکہ ججوں میں بہت سے ایسے لوگ شامل ہو چکےتھے جن کو جرنیلوں نے حصوصی رعایتیں دے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا جج بنایاتھا۔ اس لئے عدلیہ دو ایسے واضح گروہوں میں تقسیم ہوگئی، ایک وہ جو حکومت کے حق میں فیصلہ کرتے، جو حکم ہوتا مان لیتے اور سرتسلیم خم کرلیتے لیکن صرف چار جج ایسے تھے جو جنہوں نے حکومت کے خلاف فیصلے دینے کی جرات کی۔ 
انہیں اپنے ہی ساتھی ججوں کی نفرت کا سامنا تھا۔ ان سے ایسے تمام کیس لےلئے گئے جو سیاسی نوعیت کے تھے۔ جن سے فوجی حکمرانوں کی حکومت ناراض ہوتی تھی۔ اب وکلاء تحریک بن کر اٹھے اور عام لوگ ان کے ساتھ مل گئے۔ عدالتوں میں ہر دوسرے روز فوجی حکمرانی کے خلاف، آئین اور قانون کی بالادستی کےلئے ایک نہ ایک پٹیشن دائر ہوجاتی اور پھر مہینوں ان پٹیشنوں کی شنوائی تک نہ ہوتی۔

ایسے میں ایک جج ” لاوٹوکا” نے غیرت وحمیت کا پہلا سپاہی بننے کا اعلان کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسی کیس میں چیف جسٹس کو بھی فریق بنایا گیاتھا جس کا فیصلہ جسٹس لاوٹوکا نے کرنا تھا۔اس نے فیصلہ دیا کہ کیسوں کی الاٹمنٹ کا اختیار چیف جسٹس کا صوابدیدی نہیں ہوناچاہئیے۔ یہ Random یعنی ججوں کی ترتیب کے حساب سے خود بخود تقسیم ہوناچاہئیے۔

اس فیصلے نے وکلاء اور عوام میں جان ڈال دی۔ پورے ملک کی وکلاء برادری ایک لاء سوسائٹی کے تحت متحد تھی۔ اس کے صدر نے تمام ججوں کو ایک طویل خط لکھا۔ اس نے لکھا کہ عدلیہ آج سے اپنے تمام فیصلوں، ڈگریوں اور حکمناموں سے براءت کا اعلان کرے جو اس نے فوجی حکمرانوں کو مستحکم کرنے کےلئے کئے تھے۔ بلکہ عدلیہ کہے کہ ہمارا ان فیصلوں کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہم ان کو مانتے ہیں۔
یہ وہ سب کچھ تھا جنہوں نے ججوں کو حوصلہ دیا۔ آمریت سے لڑنے کا، فوجی حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انصاف کرنے کا۔ وہ اپنخ تمام غلطیوں، کوتاہیوں اور کمزوریوں پر نادم بھی تھے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ بھی رکھتے تھے۔ 
اور پھر 4 جنوری 2007 کا وہ دن آگیا جب عدلیہ کی آزادی فوجی حکمرانوں کےلئے ایک نفسیاتی مسلہ بن گئی۔ ملٹری کمانڈر ” بینیتی مارما ” پاگل ہورہاتھا۔ یہ کون ہوتے ہیں ہماری آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے، انہیں ہم نے جج بنایا ہے، عہدہ دیا، نوکری دی، آج یہ ہماری وجہ سے عدالتوں میں بیٹھے ہیں اور اب ہمارے ہی خلاف فیصلہ دےرہے ہیں۔

اس نے چیف جسٹس ” دانیال فتیاگی” کو ایک طویل رحصت پر بھیج کر غیرفعال کردیا تاکہ اس کے خلاف ایک آزاد تفتیش ہوسکے اور ساتھ ہی چیف مجسٹریٹ کو بھی رحصت عطا کردی گئی۔

لیکن اب پلوں کے نیچے بہت ساپانی گزرچکا تھا۔ اب ججوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اگر عوام کی طاقت ان کے ساتھ ہو تو کسی بھی ڈکٹیٹر سے ڈرنے اور اسکے خوف میں آکر فیصلے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سپریم کورٹ پر پہرے بٹھا دئے گئے۔ فوجی بندوقیں تھانے کھڑے تھے، لیکن اس سے تھوڑی دور ایک گھنا درخت تھا اور جسٹس دانیال فتیاگی اپنے ساتھی ججوں سمیت اس کے نیچے جابیٹھا، عدالت لگائی اور فیصلہ سنادیا۔

لوگوں کو اسی غیرت وحمیت اور براءت کی ضرورت تھی اور پھر تاریخ شاہد ہے کہ خلق خدا جب کھڑی ہو تو سب سے کمزور ایک ڈکٹیٹر ہی ہوتا ہے۔

یہ ہماری بدنصیبی ہے یا پھر بدفالی  یا یہ مٹی ایسی بانجھ ہے کہ باغیرت اور باحمیت منصف آج تک پیدا نہ کرسکی، یا پھر شاید ابھی تک سپریم کورٹ کی عدالت کے سامنے کوئی گھنا درخت نہیں یا ہمیں اس درخت کےنیچے بیٹھ کر فیصلہ کرنے کےلئے لوگوں کی مزید حمایت درکار ہے۔

یقین جانیے جس دن وہ لمحہ آگیا اس دن عدالت لگانے کےلئے بڑا درخت نہیں بلکہ ایک بے سایہ فٹ پاتھ بھی کافی ہوگا۔

علی فیاض

..

26 Comments (تبصرے)

Leave A Reply (جواب چھوڑ دیں)